صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۶ - بکریوں کے کانوں پر داغ لگانے کا ذکر
بکریوں کے کانوں پر نشان لگانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۶
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : " دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ فِي آذَانِهَا " .
انس روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم داغ دے رہے تھے بکریوں کے کانوں پر۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھان میں گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کو داغ رہے تھے۔ راوی کا خیال ہے کہ یہ داغ ان کے کانوں پر تھا۔ جانوروں پر نشان لگانے کی حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جانوروں کی شناخت کے لیے نشان لگانا متن میں موجود عمل ہے۔ اس روایت میں چہرے پر داغ کا ذکر نہیں، بلکہ بکریوں کے کانوں کا ذکر ہے۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ پچھلی روایات میں چہرے پر داغ دینے سے منع کیا گیا تھا۔ یہاں معاملہ شناختی نشان کا ہے، اور روایت اسی حد تک رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکریوں کو داغنے کا ذکر ہے۔
- راوی کے مطابق داغ غالباً کانوں پر تھا۔
- شناخت کے لیے نشان لگانے کا عمل اس روایت میں آیا ہے۔
- چہرے پر داغ اور کانوں پر نشان کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
