صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۰ - خوارج کی علامت اور ظاہری دین داری
خوارج کی حدیث: ظاہری کلام اور دل کے ایمان کا فرق
صحیح بخاری : ۶۹۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۳۰
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا خَيْثَمَةُ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خِدْعَةٌ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ : مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
علی روایت:
جب میں تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو قسم اللہ کی اگر میں آسمان سے نیچے گر پڑوں یہ مجھ کو اس سے اچھا لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں ہاں جب مجھ میں تم میں آپس میں گفتگو ہو تو اس میں بنا کر بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) لڑائی تدبیر اور مکر کا نام ہے۔دیکھو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اخیر زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نوعمر بیوقوف ہوں گے (ان کی عقل میں فتور ہو گا) ظاہر میں تو ساری خلق کے کلاموں میں جو بہتر ہے (یعنی حدیث شریف) وہ پڑھیں گے مگر درحقیقت ایمان کا نور ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے پار نکل جاتا ہے۔ (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) تم ان لوگوں کو جہاں پانا بے تامل قتل کرنا، ان کو جہاں پاؤ قتل کرنے میں قیامت کے دن ثواب ملے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سختی بیان کی، پھر آخری زمانے کے ایک گروہ کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگ نکلیں گے جو عمر میں کم اور سمجھ میں کمزور ہوں گے۔ وہ بہترین کلام پڑھیں گے، مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ صرف اچھی باتیں پڑھ لینا کافی نہیں، دل میں صحیح ایمان، سمجھ اور سچی پیروی بھی ضروری ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے نصوص کو ذاتی تشدد کے جواز کے طور پر نہیں لیا جاتا، بلکہ اہل علم اور جائز اختیار کے دائرے میں سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر جھوٹ باندھنا بہت سنگین بات ہے۔
- صرف ظاہری الفاظ اور تلاوت ایمان کی پختگی کی ضمانت نہیں۔
- دین کے نام پر کم فہمی اور شدت انسان کو خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہے۔
