صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۳ - رشتہ داری اور حسن سلوک
رشتہ داری کی حدیث: بنی زہرہ کے ساتھ عائشہؓ کا حسن سلوک
صحیح بخاری : ۳۵۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۰۳
وَقَالَ : اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : ذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ إِلَى عَائِشَةَ وَكَانَتْ أَرَقَّ شَيْءٍ عَلَيْهِمْ لِقَرَابَتِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عروہ بن زبیر روایت:
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی زہرہ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی تھیں کیونکہ ان لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رشتہ داری اور حسن سلوک ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان لوگوں کے ساتھ بہت نرمی اور محبت سے پیش آتی تھیں، کیونکہ ان کی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے قرابت تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں رشتہ داری کی پہچان صرف نام کی چیز نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ادب، محبت اور اچھا برتاؤ بھی ہونا چاہیے۔ یہ حدیث رشتہ داری کی حدیث، بنی زہرہ کی فضیلت، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی قرابت جیسے اہم موضوعات کو سادہ انداز میں سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے نسبت رکھنے والوں کے ساتھ ادب اور نرمی اختیار کرنا اچھی بات ہے۔
- رشتہ داری کو پہچاننا اور اس کی وجہ سے اچھا برتاؤ کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- بزرگوں اور اہل علم کے پاس ادب کے ساتھ جانا سیکھنے اور تعلق جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
