صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۴ - قریش اور انصار کے خیرخواہ قبائل
قریش اور انصار کی فضیلت: خیرخواہ قبائل کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : ح يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَأَشْجَعُ وَغِفَارُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیرخواہ ہیں اور ان کا بھی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث قبائل کی فضیلت کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کا ذکر فرمایا اور انہیں اپنے خیرخواہ بتایا۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ دین میں خیرخواہی، وفاداری اور اللہ و رسول صلى الله عليه وسلم سے تعلق بہت بڑی بات ہے۔ حدیث میں ان قبائل کے لیے یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔ اس لیے اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ حقیقی سہارا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے وفاداری ایمان والوں کے لیے عزت کی بات ہے۔ قریش اور انصار کی فضیلت، اسلم اور غفار کی حدیث، اور خیرخواہ قبائل کا ذکر اسی مرکزی بات کے گرد آتا ہے۔ یہاں ہمیں متن سے باہر کوئی اضافی حکم نہیں نکالنا چاہیے، بلکہ اسی بات پر رکنا چاہیے جو حدیث میں صاف بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کو اپنے خیرخواہ فرمایا۔
- حقیقی حمایت اور سرپرستی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی طرف سے ہے۔
- دین کے ساتھ خیرخواہی اور وفاداری عزت کا سبب بنتی ہے۔
- کسی قوم یا قبیلے کی اصل قدر اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم سے تعلق کے ساتھ سمجھی جاتی ہے۔
