صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۸ - جاہلیت کی پکار اور عصبیت سے بچاؤ

جاہلیت کی پکار: عصبیت سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ثَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّى كَثُرُوا وَكَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلٌ لَعَّابٌ فَكَسَعَ أَنْصَارِيًّا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَدَاعَوْا ، وَقَالَ : الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ : الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ ، قَالَ : مَا شَأْنُهُمْ فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيِّ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِيثَةٌ ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ : أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَا نَقْتُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْخَبِيثَ لِعَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " .

جابر روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک تھے، مہاجرین بڑی تعداد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔ وجہ یہ ہوئی کہ مہاجرین میں ایک صاحب تھے بڑے دل لگی کرنے والے، انہوں نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی، انصاری بہت سخت غصہ ہوا۔ اس نے اپنی برادری والوں کو مدد کے لیے پکارا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان لوگوں نے یعنی انصاری نے کہا: اے قبائل انصار! مدد کو پہنچو! اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! مدد کو پہنچو! یہ غل سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ سے) باہر تشریف لائے اور فرمایا: کیا بات ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صورت حال دریافت کرنے پر مہاجر صحابی کے انصاری صحابی کو مار دینے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی جاہلیت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو اور عبداللہ بن ابی سلول (منافق) نے کہا کہ یہ مہاجرین اب ہمارے خلاف اپنی قوم والوں کی دہائی دینے لگے۔ مدینہ پہنچ کر ہم سمجھ لیں گے، عزت دار ذلیل کو یقیناً نکال باہر کر دے گا۔عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی یا رسول اللہ! ہم اس ناپاک پلید عبداللہ بن ابی کو قتل کیوں نہ کر دیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ لوگ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے لوگوں کو قتل کر دیا کرتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جاہلیت کی پکار اور عصبیت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مہاجر صحابی نے دل لگی میں ایک انصاری کو مارا، جس پر انصاری سخت ناراض ہوئے۔ پھر ایک طرف سے “اے انصار!” اور دوسری طرف سے “اے مہاجرین!” کی آواز بلند ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاہلیت کی پکار فرمایا اور صاف کہا کہ اسے چھوڑ دو، یہ ناپاک بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو حق اور انصاف کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے، نہ کہ صرف اپنی قوم، گروہ یا جماعت کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہیے۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ عبداللہ بن ابی نے اس موقع سے غلط بات نکالی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملے کو حکمت سے سنبھالا تاکہ لوگوں میں یہ بات نہ پھیلے کہ آپ اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس حدیث میں عصبیت کی حدیث، جاہلیت کی پکار، مہاجرین و انصار کا واقعہ، اور فتنہ روکنے کی نبوی حکمت صاف نظر آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گروہی نعرے اور برادری کی اندھی حمایت مسلمان کے لیے درست رویہ نہیں۔
  • غصے کے وقت بات کو بڑھانے کے بجائے فساد کو روکنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی پکار کو ناپاک بات قرار دے کر اسے چھوڑنے کا حکم دیا۔
  • بڑے فیصلوں میں صرف فوری غصہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات بھی دیکھے جاتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں