صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۹ - نوحہ اور جاہلیت کی پکار سے بچنے کی حدیث
نوحہ کی حدیث: غم میں جاہلیت والی پکار سے بچنے کی تعلیم
صحیح بخاری : ۳۵۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۹
حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ح وَعَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو (نوحہ کرتے ہوئے) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع نوحہ اور غم کے وقت صبر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ جو شخص مصیبت یا موت کے غم میں اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے، یا جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غم آنا فطری بات ہے، مگر غم میں ایسے کام کرنا درست نہیں جن میں بے صبری، شور، یا جاہلیت جیسا انداز ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کا رویہ مصیبت میں بھی سنبھلا ہوا ہونا چاہیے۔ نوحہ کی حدیث، جاہلیت کی پکار، گریبان پھاڑنا، اور رخسار پیٹنا جیسے الفاظ اس روایت کے اصل پیغام سے جڑے ہوئے ہیں۔ حدیث کا زور اسی بات پر ہے کہ غم میں حد سے بڑھے ہوئے ظاہری عمل اور جاہلی انداز سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم کے وقت رخسار پیٹنا اس حدیث میں ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔
- مصیبت میں گریبان پھاڑنا مسلمان کے مناسب طرزِ عمل کے خلاف ہے۔
- جاہلیت کی پکار یا شور مچانے سے بچنا چاہیے۔
- غم میں بھی اپنے عمل اور زبان کو قابو میں رکھنا اس حدیث کا واضح سبق ہے۔
