صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۱ - جاہلیت کی شرکیہ رسم سائبة

سائبة کی حدیث: جاہلیت کی خود ساختہ رسم کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ الْبَحِيرَةُ : الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ وَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالسَّائِبَةُ : الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .

سعید بن مسیب روایت:

«بحيرة» وہ اونٹنی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی۔ کیونکہ وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی۔ اس لیے کوئی بھی شخص اس کا دودھ نہیں دوہتا تھا اور «سائبة» اسے کہتے جس کو وہ اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیتے اور ان پر کوئی بوجھ نہ لادتا اور نہ کوئی سواری کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے عمرو بن عامر بن لحیی خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا اور یہی عمرو وہ پہلا شخص ہے جس نے «سائبة» کی رسم نکالی۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جاہلیت کی شرکیہ رسم ہے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بتایا کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک دیا جاتا تھا، اس لیے لوگ اسے نہیں دوہتے تھے۔ سائبة اس جانور کو کہتے تھے جسے لوگ اپنے معبودوں کے لیے آزاد چھوڑ دیتے تھے، نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا اور نہ اس پر سواری کی جاتی تھی۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عامر بن لحی خزاعی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا، اور وہ پہلا شخص تھا جس نے سائبة کی رسم شروع کی۔ اس حدیث سے صاف بات سمجھ آتی ہے کہ عبادت، نذر اور جانوروں سے متعلق دینی کام اپنی مرضی سے نہیں بنائے جاتے۔ جو طریقہ اللہ کے دین میں نہ ہو، اسے مذہبی رسم بنا دینا بہت خطرناک معاملہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانوروں کو بتوں یا جھوٹے معبودوں کے نام پر خاص کرنا جاہلیت کی رسم تھی۔
  • دین کے نام پر اپنی طرف سے رسم شروع کرنا سخت نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • بحیرہ اور سائبة جیسی رسمیں اللہ کے حکم کے بجائے لوگوں کی خود بنائی ہوئی باتیں تھیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کے شروع کرنے والے شخص کا برا انجام بیان فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں