صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۴ - سائبہ کی رسم کا انجام

سائبہ کی رسم ایجاد کرنے والے عمرو بن عامر کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۲۴

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ایک منظر بیان فرمایا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ حدیث میں صاف بتایا گیا کہ یہی وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے سائبہ کی رسم ایجاد کی۔ سائبہ سے مراد وہ جاہلی رسم ہے جس میں جانوروں کو بتوں یا باطل عقیدوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس روایت کا اصل موضوع جاہلی رسم، غلط دینی طریقہ ایجاد کرنا، اور اس کے برے انجام کا بیان ہے۔ حدیث ہمیں اپنے الفاظ میں یہی بتاتی ہے کہ دین میں باطل رسم کا آغاز معمولی بات نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سائبہ کی رسم جاہلی اور باطل طریقہ تھی۔
  • غلط رسم شروع کرنے والے کے انجام کا حدیث میں سخت ذکر آیا ہے۔
  • جانوروں کو باطل عقیدوں کے نام پر چھوڑنا درست نہیں بتایا گیا۔
  • دین میں اپنی طرف سے رسم ایجاد کرنے سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں