صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۵ - قیامت کے دن حشر اور دین پر ثابت قدمی
قیامت کے دن حشر کی حدیث: دین پر ثابت قدم رہنے کی یاد دہانی
صحیح بخاری : ۴۶۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، ثُمَّ قَالَ : كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أُصحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ سورة المائدة آية 117 ، فَيُقَالُ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کے دن حشر کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ لوگ اللہ کے پاس ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے جمع کیے جائیں گے۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت پڑھی کہ جس طرح پہلی بار پیدا کیا گیا، اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ پھر امت کے کچھ لوگوں کا ذکر ہے جنہیں بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں عرض کریں گے، مگر بتایا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں نئی نئی باتیں نکالیں اور پیچھے پلٹ گئے۔ اس سے دین پر قائم رہنے، بدعت سے بچنے اور آخرت کی تیاری کا واضح سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن سب انسان اللہ کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔
- دین میں نئی باتیں نکالنے کا معاملہ بہت سنگین ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی فکر بیان فرمائی۔
- آخرت کی یاد انسان کو اپنے دین پر قائم رہنے کی طرف بلاتی ہے۔
