صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۳ - اسلم اور غفار کی فضیلت

اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کی فضیلت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۳

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ- أَوْ قَالَ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ- خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ- أَوْ قَالَ- يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ.

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ اور جہنیہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا (بیان کیا کہ) جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۳ کا خلاصہ

یہ حدیث قبائل کی فضیلت کے موضوع پر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کے نزدیک، یا قیامت کے دن، اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔ اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ کسی قبیلے یا خاندان کی اصل قدر اللہ کے ہاں ہے، صرف دنیاوی شہرت یا طاقت سے نہیں۔ یہاں بات انہی قبائل کے بارے میں ہے جن کا ذکر حدیث میں آیا ہے، اس لیے اسے عام نسلی برتری کا اصول نہیں بنانا چاہیے۔ اسلم اور غفار کی فضیلت کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت کا اصل فیصلہ اللہ کے ہاں ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے نزدیک فضیلت کا فیصلہ ظاہری شہرت سے الگ ہو سکتا ہے۔
  • حدیث میں جن قبائل کا ذکر ہے، بات انہی تک محدود رکھنی چاہیے۔
  • کسی قوم یا قبیلے کے بارے میں بات کرتے وقت شرعی نص کا لحاظ ضروری ہے۔
  • قیامت کے دن اصل عزت اللہ کے فیصلے سے ظاہر ہو گی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں