صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۰ - مسجد میں حبشیوں کا کھیل
حبشیوں کے نیزوں کے کھیل کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۰
وَقَالَتْ عَائِشَةُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ " .
عائشہ روایت:
میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو پردہ میں رکھے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو نیزوں کا کھیل مسجد میں کر رہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں چھوڑ دو، بنی ارفدہ تم بےفکر ہو کر کھیلو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث عید کے دن جائز کھیل اور اجازت کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ میں رکھا، اور وہ حبشیوں کو دیکھ رہی تھیں جو مسجد میں نیزوں کا کھیل کر رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو، اے بنی ارفدہ! بے خوف ہو کر کھیلو۔ حبشیوں کے کھیل کی حدیث سے سمجھ آتا ہے کہ اس خاص موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھیلنے دیا۔ متن میں مسجد، نیزوں کا کھیل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت تینوں باتیں موجود ہیں، اس لیے شرح میں انہی باتوں پر رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حبشیوں کو کھیلنے دیا۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کو پردہ میں رکھ کر دیکھنے دیا گیا۔
- حدیث میں اجازت کا تعلق خاص واقعے سے ہے۔
- کسی بات کو سمجھنے میں موقع اور الفاظ دونوں اہم ہیں۔
