صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۴ - انبیاء کی عمارت اور آخری اینٹ

انبیاء کی عمارت اور آخری اینٹ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ ، وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کر دیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۴ کا خلاصہ

یہ حدیث انبیاء کی مثال اور ختم نبوت کے موضوع سے جڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اسے مکمل اور خوب صورت بنایا، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے، اسے دیکھ کر تعجب کرتے اور کہتے کہ کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی۔ اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقام سمجھایا۔ آخری اینٹ کی حدیث پڑھنے والے کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انبیاء کا سلسلہ ایک مکمل عمارت کی طرح ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اس مثال میں بہت نمایاں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات سمجھانے کے لیے آسان مثال دی۔
  • انبیاء کے سلسلے کو ایک مکمل گھر سے تشبیہ دی گئی۔
  • لوگ گھر کی خوبصورتی دیکھتے مگر خالی جگہ کو بھی محسوس کرتے تھے۔
  • حدیث کی مثال کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں