صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۳ - محمد نام کی عزت
محمد نام کی عزت اور قریش کی گالیوں سے حفاظت
صحیح بخاری : ۳۵۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ ، وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے۔ مجھے وہ «مذمم» کہہ کر برا کہتے، اس پر لعنت کرتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث نام محمد کی عزت اور اللہ کی حفاظت کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنت کو مجھ سے کس طرح دور کرتا ہے۔ وہ مذمم کو برا کہتے اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں، حالانکہ میں محمد ہوں۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مختصر مگر دل کو چھونے والی بات فرمائی۔ نام محمد کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی حفاظت فرمائی۔ یہاں اصل بات قریش کے غلط نام لینے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک نام محمد کے فرق کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی حفاظت فرماتا ہے۔
- قریش جس نام کو برا کہتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں تھا۔
- محمد نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام ہے۔
- بری بات کا جواب کبھی مختصر اور حکمت بھرا بھی ہو سکتا ہے۔
