صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۷ - نام محمد رکھو کنیت نہیں
محمد نام رکھنے اور ابوالقاسم کنیت سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۷
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک صاحب کی آواز آئی۔ یا اباالقاسم! آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے (معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی اور کو پکارا ہے) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۷ کا خلاصہ
یہ حدیث نام اور کنیت کے موضوع پر ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے، ایک آدمی نے یا اباالقاسم کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی اور کو پکار رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو۔ محمد نام رکھنے کی حدیث میں ایک عملی واقعہ بھی ہے اور پھر حکم بھی بیان ہوا ہے۔ متن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اجازت نام محمد کے بارے میں ہے، جبکہ کنیت ابوالقاسم رکھنے سے منع کیا گیا۔ اس بات کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے حدیث میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا۔
- حدیث کا سبب بازار کا ایک واقعہ تھا۔
- نام اور کنیت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
