صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۹ - ابوالقاسم کنیت کا حکم

ابوالقاسم کنیت نہ رکھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .

ابوہریرہ روایت:

ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۹ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی نام اور کنیت کے مسئلے پر ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔ یہاں راوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوالقاسم کے لقب سے ذکر کیا، پھر وہی حکم نقل کیا جو دوسری روایات میں بھی آیا ہے۔ ابوالقاسم کنیت کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ محمد نام کی اجازت ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اختیار کرنے سے روکا گیا۔ اس روایت میں کوئی اضافی تفصیل نہیں، اس لیے اسے سادہ اور واضح انداز میں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا۔
  • اسی مضمون کی متعدد روایات ایک ہی بات کو مضبوط کرتی ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں