صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۸ - محمد نام کی اجازت
میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت نہ رکھو
صحیح بخاری : ۳۵۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۳۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
جابر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۳۸ کا خلاصہ
یہ حدیث محمد نام رکھنے اور کنیت کے بارے میں ایک مختصر مگر واضح فرمان ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھا کرو، لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ اس حدیث میں واقعہ کی تفصیل نہیں، صرف حکم بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس کا اصل مطلب یہی ہے کہ محمد نام رکھنا جائز بتایا گیا، مگر ابوالقاسم کنیت رکھنے سے منع کیا گیا۔ نام محمد کی حدیث کو سمجھتے وقت نام اور کنیت کو الگ رکھنا چاہیے۔ متن میں کوئی اضافی شرط یا لمبی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اسے سادہ انداز میں بیان کرنا ہی بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محمد نام رکھنے کی اجازت حدیث میں موجود ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا۔
- مختصر حدیث بھی واضح حکم دے سکتی ہے۔
- نام اور کنیت کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
