صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۵ - دعا استسقاء میں ہاتھ اٹھانا

دعا استسقاء حدیث: بارش کی دعا میں ہاتھ بلند کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا استسقاء کے سوا اور کسی دعا میں (زیادہ اونچا) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا اونچا ہاتھ اٹھاتے کہ بغل مبارک کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۵ کا خلاصہ

یہ حدیث دعا استسقاء یعنی بارش کی دعا کے بارے میں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنی دعاؤں میں عام طور پر اتنے اونچے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، مگر دعا استسقاء میں آپ صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ اتنے بلند کیے کہ بغل مبارک کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ اس روایت میں خاص طور پر بارش مانگنے کی دعا کا ذکر ہے، اس لیے اسے ہر دعا پر ایک جیسا حکم بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قحط یا بارش کی ضرورت کے وقت اللہ سے عاجزی کے ساتھ مانگنا نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ ہے۔ دعا استسقاء حدیث میں دعا کی کیفیت صاف الفاظ میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بارش کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے۔
  • دعا استسقاء میں نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ خاص طور پر بلند کیے۔
  • حدیث کے لفظ کو اسی خاص موقع کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
  • مصیبت یا ضرورت کے وقت اللہ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں