صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۶ - سفر میں قصر نماز اور سترہ
قصر نماز حدیث: سفر میں دو رکعت نماز اور سترہ کا بیان
صحیح بخاری : ۳۵۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۶
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ ذَكَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " دُفِعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَأْخُذُونَ مِنْهُ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ سَاقَيْهِ فَرَكَزَ الْعَنَزَةَ ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ " .
ابوجحیفہ روایت:
میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں (محصب میں) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔پھر بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے (سترہ کے لیے) نیزہ گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۶ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر میں قصر نماز اور نماز کے سامنے سترہ رکھنے کے بارے میں اہم واقعہ بیان کرتی ہے۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ابطح میں خیمے کے اندر تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی باہر لایا گیا تو لوگ اسے لینے لگے۔ اس کے بعد ایک نیزہ گاڑا گیا، نبی صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے اور ظہر و عصر دو دو رکعت پڑھائیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ گدھے اور عورتیں آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے سے گزر رہی تھیں، جبکہ نیزہ سترہ کے طور پر موجود تھا۔ اس روایت کا اصل تعلق سفر، قصر نماز اور سترہ سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں ظہر اور عصر کی قصر نماز دو دو رکعت پڑھائی گئی۔
- نماز کے سامنے سترہ رکھنے کا عمل اس حدیث میں واضح ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم سے نسبت رکھنے والی چیزوں کو بہت احترام سے لیتے تھے۔
- حدیث کے واقعے کو اسی سفر اور نماز کے بیان تک محدود رکھنا چاہیے۔
