صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کا ٹھہر ٹھہر کر بولنا

نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز گفتگو: ٹھہر ٹھہر کر بات کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۷

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَّزَّارُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ " ،

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے کہ اگر کوئی شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ) گن لینا چاہتا تو گن سکتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۷ کا خلاصہ

یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے انداز گفتگو کے بارے میں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اتنے ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے کہ اگر کوئی آپ صلى الله عليه وسلم کے الفاظ گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی گفتگو تیز، الجھی ہوئی یا سمجھ سے باہر نہ ہوتی تھی۔ حدیث کا اصل سبق یہی ہے کہ بات ایسی ہو جو سننے والے تک صاف پہنچے۔ دینی بات ہو یا عام گفتگو، جلدی جلدی بولنے سے بات کا فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کرنے کا طریقہ حدیث میں نہایت سادہ انداز میں بتایا گیا ہے، اس لیے گفتگو میں ٹھہراؤ اور وضاحت اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بات اتنی صاف ہونی چاہیے کہ سننے والا آسانی سے سمجھ سکے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم جلدی جلدی اور الجھے ہوئے انداز میں بات نہیں کرتے تھے۔
  • تعلیم یا نصیحت میں ٹھہراؤ بات کو زیادہ قابل فہم بناتا ہے۔
  • اچھا انداز گفتگو بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی سیرت کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں