صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۸ - جلدی جلدی بات نہ کرنا
گفتگو کے آداب حدیث: دین کی بات سمجھا کر بیان کریں
صحیح بخاری : ۳۵۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۸
وَقَالَ : اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو فُلَانٍ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .
عائشہ روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) پر تمہیں تعجب نہیں ہوا۔ وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے سنانے کے لیے بیان کرنے لگے۔ میں اس وقت نماز پڑھ رہی تھی۔ پھر وہ میری نماز ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے۔ اگر وہ مجھے مل جاتے تو میں ان کی خبر لیتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح یوں جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۸ کا خلاصہ
یہ حدیث گفتگو کے آداب سے متعلق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ اس سے پچھلی حدیث کی بات مزید واضح ہوتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز بیان آرام سے، سمجھ آنے والا اور منظم تھا۔ حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بھی ہے کہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں، اور وہ شخص حدیثیں سنا کر چلا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ دین کی بات سنانے میں بھی سننے والے کی حالت اور سمجھ کا خیال رکھا جائے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز گفتگو حدیث ہمیں بے قابو تیزی سے بچنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات بیان کرتے وقت جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- بات کا مقصد سننے والے کو سمجھانا ہے، صرف الفاظ کہنا نہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز تیز رفتاری سے مسلسل بولنے جیسا نہیں تھا۔
- سننے والے کی حالت کا خیال رکھنا گفتگو کے ادب میں شامل ہے۔
