صحیح بخاری حدیث ۹۴ - بات تین بار دہرانا
تعلیم کا نبوی انداز: بات تین بار دہرانا
صحیح بخاری : ۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۴
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا " .
انس روایت:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار دہراتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا۔
صحیح بخاری حدیث ۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے، اور جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔ یہ حدیث تعلیم اور گفتگو کے خوبصورت انداز کو بتاتی ہے۔ بات سمجھانا صرف الفاظ کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ سننے والے کی سمجھ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز صاف، نرم اور سمجھ آنے والا تھا۔ آج بھی استاد، والدین، خطیب یا کوئی بھی سمجھانے والا شخص اس سے سیکھ سکتا ہے کہ اہم بات کو مناسب انداز میں دہرایا جائے تاکہ مخاطب اسے اچھی طرح سمجھ لے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم بات سمجھانے کے لیے دہرانا مفید ہے۔
- سلام میں بھی توجہ اور وضاحت کا انداز ملتا ہے۔
- تعلیم دیتے وقت سننے والے کی سمجھ کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز گفتگو آسان اور واضح تھا۔
