صحیح بخاری حدیث ۹۵ - سمجھانے کے لیے بات دہرانا

بات سمجھانے کا آسان طریقہ: تین بار دہرانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۵

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا " .

انس بن مالک روایت:

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار لوٹاتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا۔ اور جب کچھ لوگوں کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور انہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے۔

صحیح بخاری حدیث ۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے، یہاں تک کہ وہ بات آپ سے اچھی طرح سمجھ لی جاتی۔ اسی طرح جب آپ کسی قوم کے پاس آتے اور سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم جلدی جلدی یا مشکل انداز میں نہیں ہوتی تھی۔ آپ بات کو اتنا صاف فرماتے کہ سننے والا سمجھ سکے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تعلیم کا ادب ہے۔ دینی بات ہو یا عام بات، اگر مخاطب کو سمجھانا مقصد ہو تو نرمی، وضاحت اور مناسب تکرار بہت فائدہ دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بات دہرائے بغیر کبھی سننے والا مکمل نہیں سمجھ پاتا۔
  • تعلیم میں جلد بازی کے بجائے وضاحت بہتر ہے۔
  • سلام کو بھی ادب اور توجہ کے ساتھ کہنا چاہیے۔
  • اچھا معلم وہ ہے جو مخاطب کی سمجھ کا خیال رکھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں