صحیح بخاری حدیث ۹۶ - وضو میں ایڑیوں کو دھونا

وضو میں ایڑی خشک نہ چھوڑیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۶

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .

عبداللہ بن عمرو روایت:

ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے۔ تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا یا تنگ ہو گیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے پیروں پر پانی کا ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا کہ آگ کے عذاب سے ان ایڑیوں کی (جو خشک رہ جائیں) خرابی ہے۔ یہ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔

صحیح بخاری حدیث ۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے پیچھے رہ گئے۔ جب آپ ان کے قریب پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو چکا تھا اور لوگ وضو کر رہے تھے۔ جلدی کی وجہ سے وہ اپنے پیروں پر پانی کا ہاتھ پھیرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا کہ آگ کے عذاب سے ان ایڑیوں کی خرابی ہے۔ آپ نے یہ بات دو یا تین بار فرمائی۔ اس حدیث کا اصل پیغام وضو کی تکمیل ہے۔ جلدی میں وضو ایسا نہ کیا جائے کہ پاؤں یا ایڑیاں خشک رہ جائیں۔ نماز سے پہلے پاکی کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں پاؤں اور ایڑیاں اچھی طرح دھونی چاہییں۔
  • نماز کا وقت تنگ ہو تب بھی وضو میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔
  • اہم غلطی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے تنبیہ فرمائی۔
  • عبادت میں جلدی کے باوجود درست طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں