صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۳ - دعا کی آواز میں اعتدال

دعا میں اعتدال والی روایت کا دوسرا طریق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ . ح قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۳ کا خلاصہ

یہ روایت مختصر ہے اور بتاتی ہے کہ پچھلی روایت اسی سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کردہ مضمون، یعنی آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کا دعا کے بارے میں ہونا، ایک اور سند سے بھی نقل ہوا ہے۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ دعا میں درمیانی آواز کا مفہوم مزید مضبوط انداز سے سامنے آتا ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت آواز میں توازن رکھا جائے۔ نہ اتنی بلند آواز کہ غیر مناسب لگے، اور نہ اتنی پست کہ دعا کا انداز ہی باقی نہ رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
  • دعا میں درمیانی آواز رکھنے کا مفہوم اس روایت سے بھی ملتا ہے۔
  • دینی بات نقل کرتے وقت سند کی اہمیت حدیث کے متن سے ظاہر ہوتی ہے۔
  • دعا میں سادگی اور مناسب آواز اختیار کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں