حدیث ۱۰۰۴
صحیح مسلم : ۱۰۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۴
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلهم ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ ، كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ ، وَشَفَتَيْهِ ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ، قَالَ : أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ، أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ» ”اپنی زبان کو مت ہلایئے“ کے بارے میں مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام جب وحی لاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف سے کہیں آپ بھول نہ جائیں جبرائیل علیہ السلام کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور ہونٹ ہلاتے ہوئے دھرایا کرتے تھے اور اس طرح ادائیگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دقت ہوتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ آپ مشقت برداشت نہ کریں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم وحی کے الفاظ آپ کے دل پر نقش کر دیں گے اور آپ کو یاد کرا دیں گے۔ جبرائیل علیہ السلام جو کچھ کہتے جائیں آپ اسے سماعت کرتے رہا کیجئیے، اور الفاظ کو یاد کرا دینا اور آپ کی زبان سے ان کو دہرا دینا یہ ہمارا ذمہ ہے۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخاموشی گردن جھکا کر سنتے اور ان کی روانگی کے بعد وہی الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسب وعدہ الہٰی اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو سنا دیا کرتے تھے۔
