حدیث ۱۰۰۵
صحیح مسلم : ۱۰۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْله : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا ، فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا ، كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا ، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ { 16 } إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ { 17 } سورة القيامة آية 16-17 ، قَالَ : جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ، قَالَ : فَاسْتَمِعْ ، وَأَنْصِتْ ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ ، قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا أَقْرَأَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے حکم الہٰی «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» ”آپ اپنی زبان بسرعت یاد کرنے کے لئے نہ ہلائیے۔“ اس کا واقعہ یہ ہے کہ نزول قرآن کریم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ وقت اپنی زبان سے الفاظ وحی ادا کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہونٹ ہلاتے ہوئے سعید سے حدیث بیان کی۔ اور سعید نے کہا: جس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے ہونٹ ہلا رہے تھے، میں بھی اسی طرح اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ آپ بسرعت یاد کرنے کے لئے اپنی زبان نہ ہلائیے۔ آپ کے دل میں الفاظ وحی یاد کرا دینا اور پھر آپ کی زبان سے ان کو کہلوا دینا یہ ہمارا کام ہے۔ جب ہم یعنی ہمارا فرشتہ جبرائیل اسے پڑھے تو آپ خاموش سنتے رہتے۔ اس حکم الٰہی کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے الفاظ بہ خاموشی سنتے رہتے۔ اور ان کی روانگی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الفاظ دہرا دیتے جو جبرائیل علیہ السلام کہہ جاتے تھے۔
