صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۶ - جنات کا قرآن سننا
جنات کے قرآن سننے اور ایمان لانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۰۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۶
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ ، وَمَا رَآهُمْ ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ ، عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ ، وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ ، قَالُوا : مَا ذَاكَ ، إِلَّا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ، فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ ، وَهُوَ بِنَخْلٍ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ ، وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ ، اسْتَمَعُوا لَهُ ، وَقَالُوا : هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا : يَا قَوْمَنَا ، إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا { 1 } يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا { 2 } سورة الجن آية 1-2 ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1 " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کو قرآن نہیں سنایا اور ان کو دیکھا بھی نہیں، واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس زمانہ میں عکاظ کے بازار گئے، جب کہ شیطانوں پہ آسمانی دروازے بند ہو گئے تھے اور ان پر آگ کے شعلے برسائے جا رہے تھے۔ چنانچہ شیطانوں کے ایک گروہ نے اپنے لوگوں میں جا کر کہا کہ ہمارا آسمان پر جانا بند ہو گیا اور ہم پر آگ کے شعلے برسنے لگے۔انہوں نے کہا کہ اس کا سبب ضرور کوئی نیا امر ہے تو پورب و پچھم یعنی مشرق و مغرب کی طرف پھر کر خبر لو اور دیکھو کیا وجہ ہے جو آسمان کی خبریں آنا بند ہو گئیں۔ وہ زمین میں مشرق و مغرب کی طرف پھرنے لگے۔ ان میں سے کچھ لوگ تہامہ (مُلک حجاز) کی طرف عکاظ کے بازار کو جانے کیلئے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (مقام) نخل میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔جب انہوں نے قرآن سنا تو ادھر دل لگایا تو کہنے لگے کہ آسمان کی خبریں موقوف ہونے کا یہی سبب ہے پھر وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے اور کہنے لگے! اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک عجب قرآن سنا جو سچی راہ کی طرف لے جاتا ہے پس ہم اس پر ایمان لائے اور ہم کبھی اللہ کے ساتھ شریک نہ کریں گے تب اللہ تعالیٰ نے سورہَ جن اپنے پیغمبر پر اتاری: «قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ» آخر تک۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ میں جنات کو خود جا کر قرآن نہیں سنایا اور نہ انہیں دیکھا۔ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جا رہے تھے۔ اسی دوران شیطانوں کے لیے آسمانی خبریں بند ہو چکی تھیں اور ان پر شعلے برسائے جا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تہامہ کی طرف آئے اور مقام نخل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں قرآن پڑھتے سنا۔ انہوں نے توجہ سے قرآن سنا اور کہا کہ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے آسمانی خبریں بند ہوئیں۔ پھر اپنی قوم کے پاس گئے اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن ہدایت کی طرف بلاتا ہے، جیسا کہ جنات نے خود کہا۔
- جنات نے قرآن سن کر اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنے کا اقرار کیا۔
- فجر کی نماز میں قرآن کی قرأت کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- قرآن سننے سے دل حق کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔
