صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۷ - لیلۃ الجن اور قرآن کی دعوت

لیلۃ الجن اور جنات کو قرآن سنانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ ، هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ قَالَ : فَقَالَ عَلْقَمَةُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَفَقَدْنَاهُ ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ ، فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ ، قَالَ : فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ ، بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ ، جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْنَاكَ ، فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ ، بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَقَالَ : أَتَانِي ، دَاعِي الْجِنِّ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِنَا ، فَأَرَانَا آثَارَهُمْ ، وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ ، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ ، فَقَالَ : لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ، ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا ، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ " ،

عامر روایت:

میں نے علقمہ سے پوچھا: کیا لیلۃ الجن کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (یعنی جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے ملاقات فرمائی) انہوں نے کہا: نہیں۔ لیکن ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گم ہو گئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔ ہم سمجھے کہ آپ کو جن اڑا لے گئے یا کسی نے چپکے سے مار ڈالا اور رات ہم نے نہایت بُرے طور سے بسر کی۔جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا (جبل نور پہاڑ ہے جو مکہ اور منیٰ کے بیچ میں ہے) کی طرف سے آ رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! رات کو آپ ہم کو نہ ملے۔ ہم نے تلاش کیا جب بھی نہ پایا۔ آخر ہم نے بُرے طور سے رات کاٹی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جنوں کی طرف سے ایک ہلانے والا آیا۔ میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو قرآن سنایا۔“ پھر ہم کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتلائے، جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توشہ چاہا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جانور کی ہر ہڈی جو اللہ کے نام پر کاٹا جائے تمہاری خوراک ہے۔ تمہارے ہاتھ میں پڑتے ہی وہ گوشت سے پر ہو جائے گی اور ہر ایک اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہڈی اور مینگنی سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عامر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے علقمہ سے پوچھا کہ کیا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ جواب ملا کہ نہیں۔ پھر واقعہ بیان ہوا کہ ایک رات صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا، بہت تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔ صبح آپ حرا کی طرف سے تشریف لائے اور بتایا کہ جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تھا، میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر آپ نے صحابہ کو ان کے نشان اور انگاروں کے نشان دکھائے۔ جنوں نے توشہ مانگا تو ہڈی اور مینگنی کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اور مینگنی سے استنجا کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ وہ جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو قرآن سنایا۔
  • صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی پر بہت پریشان ہوئے۔
  • ہڈی اور مینگنی سے استنجا نہ کرنے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
  • جنات کو بھی قرآن کی دعوت دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں