صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۸ - جزیرہ کے جنات کا توشہ
لیلۃ الجن کی روایت کا دوسرا بیان
صحیح مسلم : ۱۰۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۸
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ ، قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ ، وكانوا من جن الجزيرة ، إلى آخر الحديث ، من قول الشعبي ، مفصلا من حديث عبد الله ،
مطلب دوسری روایت کا وہی ہے جو اوپر گزرا یہ جو اوپر کی روایت میں مذکور ہے کہ جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توشہ چاہا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ شعبی کا قول ہے۔ اور حدیث ختم ہو گئی یہاں تک کہ ان کے انگلیوں کے نشان بتلائے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ بات وہی ہے جو پہلے گزر چکی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنوں کے بلانے پر جانا، انہیں قرآن سنانا، پھر صحابہ کو ان کے نشان اور آگ کے آثار دکھانا۔ اس روایت میں شعبی کا قول بھی نقل ہوا کہ جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ چونکہ متن خود یہ بھی بتاتا ہے کہ حدیث کا اصل حصہ ایک مقام تک ہے اور بعد کا حصہ شعبی کے قول سے آیا ہے، اس لیے اس روایت کو سمجھتے وقت یہی فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہاں اصل موضوع لیلۃ الجن، جنات کے آثار اور قرآن کی دعوت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک واقعہ مختلف سندوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
- جنات کے آثار دکھانے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- جنوں کے توشہ کا ذکر شعبی کے قول کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- روایت کے متن میں اصل حدیث اور راوی کے قول کا فرق سمجھنا چاہیے۔
