صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۹ - جنات کے آثار کا ذکر

لیلۃ الجن کے واقعہ کی مختصر روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۹

وحدثناه أبو بكر بن أبي شيبة ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .

عبداللہ روایت:

اس سند سے عبداللہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں اس جملہ تک ان کے انگاروں کے نشان اور اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ نقل ہوا، مگر روایت صرف اس جملے تک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کے انگاروں کے نشان دکھائے۔ اس کے بعد کے الفاظ اس سند میں ذکر نہیں کیے گئے۔ اس طرح یہ روایت لیلۃ الجن کے واقعہ کا مختصر بیان پیش کرتی ہے۔ اس میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کے پاس گئے، انہیں قرآن سنایا، پھر صحابہ کو ان کے آثار دکھائے۔ چونکہ اس روایت میں ہڈی، مینگنی اور توشہ والے الفاظ نہیں آئے، اس لیے اس حدیث کی تشریح میں انہی الفاظ تک بات رکھنی چاہیے جو یہاں موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کی ہر سند میں الفاظ کبھی مکمل اور کبھی مختصر آ سکتے ہیں۔
  • اس روایت میں جنوں کے آثار اور انگاروں کے نشان کا ذکر ہے۔
  • تشریح کرتے وقت اسی متن تک بات محدود رکھنی چاہیے جو روایت میں موجود ہو۔
  • لیلۃ الجن کا واقعہ صحابہ کے ذریعے نقل ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں