صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۰ - ابن مسعود اور لیلۃ الجن

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی لیلۃ الجن سے محبت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۱۰

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

میں لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھا لیکن مجھ کو آرزو رہی کاش! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۰ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صاف فرماتے ہیں کہ میں لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، لیکن میری خواہش تھی کہ کاش میں آپ کے ساتھ ہوتا۔ اس بیان میں دو باتیں خاص طور پر سمجھ آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ انہوں نے اپنے بارے میں صاف بات کہی اور ایسی حاضری کا دعویٰ نہیں کیا جو ان کے ساتھ ثابت نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص موقع پر موجود ہونے کی تمنا ان کے دل میں تھی۔ یہ روایت لیلۃ الجن، صحابہ کی سچائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے محبت کے مضمون کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایت بیان کرتے وقت سچائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔
  • سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی عدم موجودگی صاف بیان کی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی خواہش صحابہ کے دل میں تھی۔
  • لیلۃ الجن ایک ایسا واقعہ تھا جس میں حاضر ہونے کی تمنا کی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں