صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۲ - دعا میں درمیانی آواز کا حکم
دعا میں درمیانی آواز رکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۰۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَتْ : أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ ،
عائشہ روایت:
حکم الہٰی «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» دعا کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ (یعنی دعا نہ بہت زور سے مانگئیے نہ بہت آہستہ)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے بارے میں بتایا کہ یہ دعا کے متعلق نازل ہوئی۔ یعنی دعا نہ بہت زور سے مانگی جائے اور نہ اتنی آہستہ کہ اس کا اظہار ہی نہ ہو۔ یہاں اصل بات دعا میں درمیانی آواز اور ادب ہے۔ بندہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اسے شور یا دکھاوے کا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح دعا اتنی پست آواز میں بھی نہ ہو کہ وہ دعا کے عام انداز سے باہر ہو جائے۔ اس حدیث سے دعا کا سادہ طریقہ سمجھ آتا ہے کہ اللہ سے مانگنے میں نرمی، وقار اور مناسب آواز رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں آواز کا مناسب ہونا ادب کے قریب ہے۔
- دعا کو بلا ضرورت بہت بلند آواز سے مانگنا پسندیدہ انداز نہیں۔
- دعا میں بہت زیادہ پست آواز بھی اس آیت کے بیان میں شامل ہے۔
- اللہ تعالیٰ سے مانگتے وقت سادگی اور وقار اختیار کرنا چاہیے۔
