صحیح بخاری حدیث ۴۹۸ - برچھا گاڑ کر نماز پڑھنا

نماز میں برچھا بطور سترہ: نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۸

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مختصر مگر واضح عمل بیان کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز میں سترہ، برچھا سامنے رکھنا اور نماز کے آگے ایک نشانی قائم کرنا ہے۔ حدیث میں جگہ، وقت یا سفر کی تفصیل نہیں دی گئی؛ صرف اتنا بتایا گیا کہ برچھا گاڑا جاتا اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرماتے۔ اس لیے تشریح بھی اسی حد میں رکھی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سامنے ایک چیز قائم کر کے اس کی طرف نماز پڑھنے کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔ عام فہم زبان میں کہیں تو نماز پڑھتے وقت سامنے کی حد واضح رکھنے کا ایک عملی طریقہ یہاں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے برچھا گاڑا جاتا تھا۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم اسی برچھے کی طرف نماز پڑھتے تھے۔
  • حدیث میں سترہ کا عمل مختصر انداز میں بیان ہوا ہے۔
  • روایت میں جو بات آئی ہے، اسی کو اصل سبق بنایا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں