صحیح بخاری حدیث ۴۹۹ - وضو کے بعد ظہر و عصر اور سترہ
وضو، ظہر و عصر اور سترہ: ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح بخاری : ۴۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا " .
ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی لایا گیا، آپ نے وضو کیا، پھر لوگوں کو ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑا گیا تھا، اور عورتیں اور گدھوں پر سوار لوگ اس عنزہ کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔ اس حدیث کا تعلق وضو، جماعت کی نماز، ظہر و عصر، نماز میں سترہ اور سترہ کے پیچھے سے گزرنے کے واقعہ سے ہے۔ متن کے مطابق بات یہ ہے کہ نماز سے پہلے وضو کیا گیا، نماز باجماعت ادا ہوئی، اور سامنے عنزہ موجود تھا جس کے پیچھے سے لوگ گزر رہے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز سے پہلے وضو کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی۔
- نماز کے سامنے عنزہ بطور سترہ موجود تھا۔
- گزرنے والے عنزہ کے پیچھے سے گزر رہے تھے، جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔
