صحیح بخاری حدیث ۵۰۰ - رفع حاجت کے بعد پانی کا استعمال
رفع حاجت کے بعد پانی: طہارت کا سادہ عمل
صحیح بخاری : ۵۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ وَمَعَنَا عُكَّازَةٌ أَوْ عَصًا أَوْ عَنَزَةٌ وَمَعَنَا إِدَاوَةٌ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ نَاوَلْنَاهُ الْإِدَاوَةَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک اور لڑکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جاتے۔ ہمارے ساتھ عکازہ (ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) یا چھڑی یا عنزہ ہوتا۔ اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل بھی ہوتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چھاگل دے دیتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو وہ اور ایک دوسرا لڑکا آپ کے پیچھے جاتے۔ ان کے ساتھ عکازہ، چھڑی یا عنزہ میں سے کوئی چیز ہوتی، اور ساتھ پانی کا ایک برتن بھی ہوتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو جاتے تو وہ آپ کو پانی کا برتن پیش کرتے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع طہارت، رفع حاجت کے بعد پانی کا استعمال، خدمت اور آداب ہیں۔ روایت میں صرف اتنا بیان ہے کہ پانی ساتھ لے جایا جاتا اور فراغت کے بعد پیش کیا جاتا، اس لیے تشریح اسی بات پر رہتی ہے۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ پاکیزگی کے معاملے میں اہتمام کیا جاتا تھا اور خادم بچے بھی ادب کے ساتھ ضرورت کی چیز پہنچاتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رفع حاجت کے بعد پانی پیش کرنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- طہارت کے لیے پانی ساتھ لے جانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
- انس رضی اللہ عنہ اور ایک لڑکا خدمت کے لیے ساتھ ہوتے تھے۔
- حدیث میں سادہ انداز سے پاکیزگی کا عملی پہلو بیان ہوا ہے۔
