صحیح بخاری حدیث ۵۰۷ - سواری کو سترہ بنا کر نماز پڑھنا
سواری کو سترہ بنانا: سفر میں نماز کا آسان طریقہ
صحیح بخاری : ۵۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا ، قُلْتُ : أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ ، قَالَ : كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے عرض میں کر لیتے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، عبیداللہ بن عمر نے نافع سے پوچھا کہ جب سواری اچھلنے کودنے لگتی تو اس وقت آپ کیا کیا کرتے تھے؟ نافع نے کہا کہ آپ اس وقت کجاوے کو اپنے سامنے کر لیتے اور اس کے آخری حصے کی (جس پر سوار ٹیک لگاتا ہے ایک کھڑی سی لکڑی کی) طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی سواری کو سامنے عرض میں کر لیتے اور اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ جب سوال کیا گیا کہ اگر سواری حرکت کرنے لگے تو کیا کیا جائے، تو نافع نے بتایا کہ ایسی صورت میں کجاوے کو سامنے کر لیا جاتا اور اس کے آخری حصے کی طرف نماز پڑھی جاتی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے نماز میں سترہ کا ایک عملی طریقہ معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر سفر یا کھلی جگہ میں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ نمازی اپنے سامنے کوئی مناسب چیز رکھ لے، تاکہ نماز کی حد واضح ہو جائے۔ حدیث میں سفر، سواری، کجاوہ اور نماز کے ادب کا سادہ بیان موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سواری یا کجاوہ بھی سترہ بن سکتا ہے، جیسا کہ اس روایت میں آیا ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے سفر والے اعمال کو بھی یاد رکھتے تھے۔
- نماز کی حالت میں سامنے کی حد واضح رکھنا نمازی کے لیے بہتر ہے۔
