صحیح بخاری حدیث ۵۰۶ - بیت اللہ میں کسی بھی جانب نماز
بیت اللہ میں نماز: نبی صلى الله عليه وسلم والی جگہ کا اہتمام
صحیح بخاری : ۵۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۶
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ ، فَمَشَى حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِبِلَالٌ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ ، قَالَ : " وَلَيْسَ عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّى فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ " .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سیدھے منہ کے سامنے چلے جاتے۔ دروازہ پیٹھ کی طرف ہوتا اور آپ آگے بڑھتے جب ان کے اور سامنے کی دیوار کا فاصلہ قریب تین ہاتھ کے رہ جاتا تو نماز پڑھتے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں نماز پڑھی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں جس کونے میں ہم چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سیدھے سامنے جاتے، دروازہ ان کی پشت کی طرف ہوتا، پھر اتنا آگے بڑھتے کہ ان کے اور سامنے والی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا۔ وہاں وہ نماز پڑھتے، کیونکہ وہ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے جس کے بارے میں بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وہاں نماز پڑھی تھی۔ ساتھ ہی ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں جس کونے میں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے محبت بھی ہے اور عبادت میں آسانی کا پہلو بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز والی جگہ کا احترام اور اہتمام کرتے تھے۔
- بیت اللہ میں نماز کے بارے میں اس روایت میں آسانی کا بیان بھی موجود ہے۔
- دینی عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی کے ساتھ وسعت کو بھی سمجھنا چاہیے۔
