صحیح بخاری حدیث ۵۰۲ - ستون کے سامنے نماز پڑھنے کا عمل
ستون کے سامنے نماز: نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی
صحیح بخاری : ۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۲
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ ، قَالَ : " فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا " .
یزید بن ابی عبید روایت:
میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ وہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی میں آیا کرتے تھے۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ایک خاص ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے تھے، وہی ستون جس کے پاس قرآن رکھا جاتا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اسی جگہ نماز کا خاص اہتمام کیوں کرتے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو اسی ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے دیکھا تھا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے چھوٹے چھوٹے اعمال کو بھی یاد رکھتے اور اپنی عبادت میں ان کی پیروی کرتے تھے۔ ستون کے سامنے نماز پڑھنا سترہ کے معنی سے بھی قریب ہے، کیونکہ ستون نمازی کے سامنے ایک آڑ بن جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کا خاص خیال رکھتے تھے۔
- مسجد میں ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھنا نمازی کے لیے آڑ بن سکتا ہے۔
- عبادت میں پسندیدہ جگہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، جب اس کی بنیاد نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل پر ہو۔
