صحیح بخاری حدیث ۵۰۹ - نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو روکنا
نمازی کے سامنے سے گزرنا: سترہ کا ادب اور روکنے کا حکم
صحیح بخاری : ۵۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْأَبِي سَعِيدٍ ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دوسری سند) اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے، کہا ہم سے حمید بن ہلال عدوی نے، کہا ہم سے ابوصالح سمان نے، کہا میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا۔ اس کے بعد ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے۔مروان نے کہا اے ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اسے لڑنا چاہیے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنے سامنے ایک چیز کو آڑ بنایا ہوا تھا۔ ایک نوجوان نے ان کے سامنے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے روکا۔ جب وہ دوبارہ اسی طرف سے گزرنے لگا تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے اسے زیادہ سختی سے روکا۔ بعد میں انہوں نے مروان کے سامنے وجہ بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سنا ہے: جب کوئی شخص کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو اور اسے لوگوں سے آڑ بنائے ہوئے ہو، پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے روکنا چاہیے۔ اگر وہ نہ مانے تو حدیث کے الفاظ کے مطابق اسے سختی سے روکنا ہے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ اس حدیث میں نماز، سترہ اور نمازی کے حق کا صاف بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نمازی کے سامنے سے گزرنے سے بچنا چاہیے، خاص طور پر جب سترہ موجود ہو۔
- نمازی کو اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روکنے کا حق دیا گیا ہے۔
- نماز کے دوران نمازی کی توجہ اور حد کا احترام ضروری ہے۔
