صحیح بخاری حدیث ۳۵۷۴ - کم پانی سے سب کا وضو
کم پانی سے وضو حدیث: ستر یا اسی صحابہ کا وضو
صحیح بخاری : ۳۵۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۷۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُبَارَكٍ ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَخَارِجِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً يَتَوَضَّئُونَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ عَلَى الْقَدَحِ ثُمَّ ، قَالَ : " قُومُوا فَتَوَضَّئُوا فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى بَلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ مِنَ الْوَضُوءِ وَكَانُوا سَبْعِينَ أَوْ نَحْوَهُ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی تھے، چلتے چلتے نماز کا وقت ہو گیا تو وضو کے لیے کہیں پانی نہیں ملا۔ آخر جماعت میں سے ایک صاحب اٹھے اور ایک بڑے سے پیالے میں تھوڑا سا پانی لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس کے پانی سے وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیالے پر رکھا اور فرمایا کہ آؤ وضو کرو، پوری جماعت نے وضو کیا اور تمام آداب و سنن کے ساتھ پوری طرح کر لیا۔ ہم تعداد میں ستر یا اسی کے لگ بھگ تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۷۴ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر میں پانی کی کمی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی برکت کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم ایک سفر میں تھے، صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نماز کا وقت آیا مگر وضو کے لیے پانی نہ ملا۔ ایک شخص تھوڑا سا پانی بڑے پیالے میں لے آیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے لیا، وضو کیا، پھر اپنا ہاتھ پیالے پر رکھا اور فرمایا کہ آؤ وضو کرو۔ پوری جماعت نے وضو کیا اور اپنا مقصد پورا کر لیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق وہ ستر یا اسی کے قریب تھے۔ اس حدیث میں تھوڑے پانی سے بہت سے لوگوں کے وضو کا خاص بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نماز کے وقت پانی تلاش کیا گیا۔
- تھوڑا سا پانی آیا مگر نبی صلى الله عليه وسلم کی برکت سے سب نے وضو کیا۔
- جماعت کی تعداد ستر یا اسی کے قریب بیان ہوئی ہے۔
- حدیث ہمیں واقعہ جتنا بیان ہوا ہے اتنا ہی سمجھنے کی طرف رہنمائی دیتی ہے۔
