صحیح بخاری حدیث ۳۵۷۵ - ایک لگن سے اسی آدمیوں کا وضو
وضو کا معجزہ حدیث: پتھر کی لگن سے اسی افراد کا وضو
صحیح بخاری : ۳۵۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۷۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ وَبَقِيَ قَوْمٌ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ كَفَّهُ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ، قُلْتُ : كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ : ثَمَانُونَ رَجُلًا " .
انس بن مالک روایت:
نماز کا وقت ہو چکا تھا، مسجد نبوی سے جن کے گھر قریب تھے انہوں نے تو وضو کر لیا لیکن بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کی بنی ہوئی ایک لگن لائی گئی۔ اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا لیکن اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر اپنا ہاتھ پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ آپ نے انگلیاں ملا لیں اور لگن کے اندر ہاتھ کو ڈال دیا پھر (اسی پانی سے) جتنے لوگ باقی رہ گئے تھے سب نے وضو کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ حضرات کی تعداد کیا تھی؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اسّی آدمی تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث مسجد نبوی کے قریب پیش آنے والے ایک واقعے کو بیان کرتی ہے۔ نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ جن لوگوں کے گھر مسجد کے قریب تھے وہ وضو کر آئے، مگر بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس پتھر کی بنی ہوئی ایک لگن لائی گئی جس میں پانی تھا۔ اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنا ہاتھ پھیلا کر اندر نہیں رکھ سکتے تھے، اس لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے انگلیاں ملا کر ہاتھ اندر رکھا۔ پھر جتنے لوگ باقی تھے سب نے وضو کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اسی آدمی تھے۔ اس حدیث میں برتن، پانی اور وضو کی واضح تفصیل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے وقت وضو کی ضرورت پوری کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے تنگ برتن میں انگلیاں ملا کر ہاتھ رکھا۔
- باقی رہ جانے والے تمام لوگوں نے اسی پانی سے وضو کیا۔
- حدیث میں تعداد اسی آدمی بیان ہوئی ہے، اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔
