صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۳ - یہودیوں سے جنگ کی خبر
یہودیوں سے جنگ کی حدیث اور پتھر کے بولنے کی خبر
صحیح بخاری : ۳۵۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۹۳
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ يَقُولُ : الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ تم یہودیوں سے ایک جنگ کرو گے اور اس میں ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اس وقت یہ کیفیت ہو گی کہ (اگر کوئی یہودی جان بچانے کے لیے کسی پہاڑ میں بھی چھپ جائے گا تو) پتھر بولے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک آنے والی جنگ کی خبر دی کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں گے اور ان پر غالب آئیں گے۔ حدیث کے الفاظ میں یہ بھی آیا کہ اس وقت پتھر بولے گا اور کہے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے۔ یہ روایت قیامت کی نشانیوں اور غیبی خبروں کے سلسلے میں بیان ہوتی ہے۔ اس کا اصل موضوع ایک خاص واقعہ کی خبر ہے، نہ کہ ہر زمانے کے عام تعلقات کا حکم۔ اس لیے اسے موجودہ افراد یا عام لوگوں کے خلاف اپنی طرف سے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ متن میں جو بات ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے غیر معمولی واقعہ پیش آ سکتا ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے آنے والی بات کی خبر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آنے والے بعض واقعات کی خبر دی۔
- حدیث میں پتھر کے بولنے کا غیر معمولی ذکر آیا ہے۔
- اس روایت کو عام نفرت یا ذاتی فیصلوں کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
