صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۲ - بالوں کے جوتے والی قوم

بالوں کے جوتے والی قوم: قیامت کی ایک نشانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۹۲

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .

عمرو بن تغلب روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہو گی اور ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۲ کا خلاصہ

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہو گی۔ پھر ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر قیامت کی نشانیوں کے باب میں ایک واضح خبر دیتی ہے۔ اس میں قوم کی پہچان کے لیے دو باتیں آئی ہیں: بالوں کے جوتے اور ڈھال جیسے چہرے۔ اس حدیث کا موضوع آخر زمانہ، قیامت سے پہلے جنگ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر ہے۔ اس میں جو الفاظ آئے ہیں، بات انہی تک محدود رکھنی چاہیے، تاکہ حدیث میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے قیامت کے قریب پیش آنے والی بعض جنگوں کی خبر دی۔
  • حدیث میں قوم کی پہچان بالوں کے جوتوں سے بیان ہوئی ہے۔
  • غیبی خبروں کو اسی طرح ماننا چاہیے جیسے روایت میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں