صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۱ - حدیث یاد کرنے کا شوق
حدیث یاد کرنے کا شوق اور قیامت سے پہلے جنگ کی خبر
صحیح بخاری : ۳۵۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۹۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ " صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ لَمْ أَكُنْ فِي سِنِيَّ أَحْرَصَ عَلَى أَنْ أَعِيَ الْحَدِيثَ مِنِّي فِيهِنَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ، وَقَالَ : هَكَذَا بِيَدِهِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَهُوَ هَذَا الْبَارِزُ ، وَقَالَ : سُفْيَانُ مَرَّةً وَهُمْ أَهْلُ الْبَازِرِ " .
قیس روایت:
ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں تین سال رہا ہوں، اپنی پوری عمر میں مجھے حدیث یاد کرنے کا اتنا شوق کبھی نہیں ہوا جتنا ان تین سالوں میں تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کر کے فرمایا کہ قیامت کے قریب تم لوگ (مسلمان) ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے (مراد یہی ایرانی ہیں) سفیان نے ایک مرتبہ «وهو هذا البارز» کے بجائے الفاظ «وهم أهل البازر.» نقل کئے (یعنی ایرانی، یا کُردی، یا دیلم والے لوگ مراد ہیں)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صحبت رسول صلى الله عليه وسلم کا ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صحبت میں تین سال رہا، اور مجھے اپنی عمر میں حدیث یاد کرنے کا اتنا شوق کبھی نہ ہوا جتنا ان تین سالوں میں تھا۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کیا کہ قیامت کے قریب مسلمان ایک ایسی قوم سے جنگ کریں گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف سامنے آتی ہیں: ایک صحابی کا حدیث یاد کرنے کا شوق، اور دوسری قیامت کے قریب پیش آنے والی ایک خبر۔ اس کا مرکزی موضوع حدیث کی حفاظت، صحابہ کا علم سے شوق، اور قیامت کی نشانی ہے۔ شرح میں اسی روایت کے الفاظ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم حدیث سننے اور یاد کرنے کا بہت شوق رکھتے تھے۔
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تین سالہ صحبت کا خاص ذکر کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قیامت سے پہلے ایک قوم سے جنگ کی خبر دی۔
