صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۸ - انصار کے ساتھ حسن سلوک
انصار کے حقوق: نیکی قبول کرو اور خطا سے درگزر کرو
صحیح بخاری : ۳۶۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الْغَسِيلِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِمِلْحَفَةٍ قَدْ عَصَّبَ بِعِصَابَةٍ دَسْمَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : "أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ فَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
مرض الوفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ ایک چکنے کپڑے سے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر جیسے ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: امابعد: (آنے والے دور میں) دوسرے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے اور ایک زمانہ آئے گا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی تعداد اتنی کم ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی شخص کہیں کا حاکم بنے اور اپنی حکومت کی وجہ سے وہ کسی کو نقصان اور نفع بھی پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ انصار کے نیکوں (کی نیکیوں) کو قبول کرے اور جو برے ہوں ان سے درگزر کر دیا کرے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری مجلس وعظ تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۸ کا خلاصہ
یہ حدیث انصار رضی اللہ عنہم کی قدر اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کا صاف پیغام دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے، منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا کہ لوگوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور انصار کم ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہوں گے جیسے کھانے میں نمک۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے خاص طور پر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی جو کسی ذمہ داری یا حکومت کے منصب پر ہوں۔ فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسا اختیار پائے جس سے وہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہو، تو انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور جو خطا کریں ان سے درگزر کرے۔ یہ آخری مجلس وعظ تھی۔ اس حدیث کا اصل موضوع انصار کی فضیلت، ان کے حقوق اور حکمرانوں کے لیے نرم رویہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار رضی اللہ عنہم کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔
- اختیار رکھنے والے شخص کو عدل اور نرمی کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔
- نیک لوگوں کی نیکی قبول کرنا اور غلطی کرنے والوں سے درگزر کرنا بہتر رویہ ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آخری مجلس وعظ میں بھی امت کو اچھے سلوک کی نصیحت فرمائی۔
