صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۹ - حسن رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کی صلح
حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث: مسلمانوں میں صلح کی خوش خبری
صحیح بخاری : ۳۶۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۲۹
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوبکرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا ”میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں ملاپ کرا دے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور مسلمانوں میں صلح کی اہمیت بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک دن حسن رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر منبر پر تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں ملاپ کرا دے گا۔ اس حدیث میں دو باتیں بہت واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ حسن رضی اللہ عنہ کو نبی صلى الله عليه وسلم نے سید فرمایا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کے درمیان صلح اور ملاپ بہت بڑی بھلائی ہے۔ یہاں جنگ، بحث یا اختلاف کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کے ذریعے مسلمانوں کو جوڑ سکتا ہے۔ صلح کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حسن رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سید فرمایا۔
- مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرانا بڑی نیکی ہے۔
- کسی باعزت شخص کے ذریعے اختلاف کم ہو سکتا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں آئندہ ہونے والی بات کی خبر دی۔
