صحیح بخاری حدیث ۳۶۸ - ممنوع لباس اور غلط خرید و فروخت
اشتمال صماء، احتباء اور غلط بیع سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۸
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ ، عَنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع و فروخت سے منع فرمایا۔ ایک تو چھونے کی بیع سے، دوسرے پھینکنے کی بیع سے اور اشتمال صماء سے (جس کا بیان اوپر گزرا) اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع سے منع فرمایا: چھونے کی بیع اور پھینکنے کی بیع۔ اسی کے ساتھ اشتمال صماء سے بھی منع فرمایا، اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے بھی۔ اس حدیث میں دو الگ پہلو آئے ہیں: خرید و فروخت میں صاف معاملہ، اور لباس میں ستر کی احتیاط۔ ملامسہ اور منابذہ ایسی بیعیں تھیں جن میں معاملہ واضح نہ رہتا تھا۔ اسی طرح اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں احتباء میں ستر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین عبادت، لباس اور معاملات سب میں صفائی اور احتیاط چاہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں ایسا طریقہ نہیں ہونا چاہیے جس میں بات واضح نہ ہو۔
- اشتمال صماء سے منع کیا گیا کیونکہ اس میں لباس کی بے احتیاطی ہو سکتی ہے۔
- ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے میں ستر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- حدیث میں معاملات اور لباس دونوں میں احتیاط سکھائی گئی ہے۔
