صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۵ - ممنوع لباس اور ملامسہ و منابذہ کی بیع
لباس اور بیع کے آداب: ملامسہ و منابذہ سے بچیں
صحیح بخاری : ۲۱۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نُهِيَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ ، أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ثُمَّ يَرْفَعَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ " .
ابوہریرہ روایت:
دو طرح کے لباس پہننے منع ہیں۔ کہ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، پھر اسے مونڈے پر اٹھا کر ڈال لے (اور شرمگاہ کھلی رہے) اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ایک بیع ملامسۃ سے اور دوسری بیع منابذہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو طرح کی باتیں بیان ہوئیں: ایک لباس کا ایک ممنوع انداز، اور دوسری دو ممنوع بیعیں۔ لباس کے بارے میں بتایا گیا کہ آدمی ایک ہی کپڑے میں اس طرح بیٹھے کہ ستر کھلنے کا خطرہ ہو، یہ منع ہے۔ پھر بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع کیا گیا۔ ملامسہ میں صرف چھونے سے بیع لازم سمجھی جاتی تھی، اور منابذہ میں کپڑا پھینک دینے سے۔ دونوں صورتوں میں سامان کو صحیح طور پر دیکھنا اور سمجھنا نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لباس میں بھی حیا چاہتا ہے اور تجارت میں بھی صاف معاملہ چاہتا ہے۔ ممنوع لباس، بیع ملامسہ، بیع منابذہ اور خرید و فروخت میں دھوکہ اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لباس ایسا ہو کہ ستر کھلنے کا اندیشہ نہ رہے۔
- بیع ملامسہ اور منابذہ سے بچنا چاہیے۔
- خرید و فروخت میں سامان کو دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔
- اسلامی تعلیمات میں حیا اور دیانت دونوں اہم ہیں۔
