صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۶ - ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے منع
ملامسہ اور منابذہ: غیر واضح بیع کی ممانعت
صحیح بخاری : ۲۱۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۶
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس میں خرید و فروخت کا اہم اصول آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ ان بیعوں کا مسئلہ یہ تھا کہ خریدار سامان کو صحیح طرح دیکھے بغیر معاملہ کا پابند ہو جاتا تھا۔ جب چیز کی حالت، معیار یا عیب واضح نہ ہو تو معاملہ انصاف سے دور ہو سکتا ہے۔ اس لیے حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ تجارت میں صاف گوئی، واضح چیز، اور باہمی رضا ضروری ہے۔ صرف چھونے یا پھینکنے سے بیع لازم سمجھنا خریدار کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ بیع ملامسہ، بیع منابذہ، غیر واضح بیع اور دھوکے والی خرید و فروخت اس روایت کے اصل سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں چیز کی حالت واضح ہونی چاہیے۔
- صرف چھونے یا پھینکنے سے بیع لازم کرنا منع ہے۔
- ایسے معاملے سے بچنا چاہیے جس میں خریدار کو نقصان کا خطرہ ہو۔
- تجارت میں واضح رضامندی اور دیانت ضروری ہے۔
