صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۲ - اشتمال صماء سے ممانعت
اشتمال صماء کیا ہے؟ حدیث کی سادہ سمجھ
صحیح بخاری : ۵۸۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۲۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع اشتمال صماء اور ستر ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا۔ اسی طرح اس سے بھی منع فرمایا کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے، جبکہ شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔ روایت مختصر ہے مگر بات صاف ہے: لباس یا بیٹھنے کا طریقہ ایسا نہ ہو جس سے ستر محفوظ نہ رہے۔ اشتمال صماء، ایک کپڑے میں بیٹھنا، ستر کی حفاظت، اور ممنوع لباس کی حدیث اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ اس میں کسی اضافی واقعہ یا الگ حکم کی تفصیل موجود نہیں، صرف منع کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اشتمال صماء سے منع کیا گیا۔
- ایسی حالت سے بچنے کا حکم ہے جس میں شرمگاہ بے پردہ ہو سکتی ہو۔
- لباس میں احتیاط اور ستر کی حفاظت اس حدیث سے سمجھ آتی ہے۔
